Friday, 30 December 2016

No automatic alt text available.

مــــــــــنزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مــل جائے تجھکو دریا تو سمندر تلاش کر
ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
پـــــتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزرگئیں
دنیا تیری بــدل دے وہ ســـــجدہ تلاش کر
ایـــــــمان تیرا لُٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایـــــــماں تیرا بــــــــچالے وہ رہبر تلاش کر

گھٹنے ٹکائے ســـر کو جھکایا ہوا ہے کیوں
ظالــــــم کا سر اُڑا دے وہ جذبہ تلاش کر
قـــــــــاتل ہی بن چُکا ہے منصف ہمارا اب
قــاتل کو قــــتل کردے وہ قاتل تلاش کر

ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تـــلاش کر
کـــــردے ســــــوار اونٹ پہ اپنے غلام کو
پـــیدل ہی خود چلے جو وہ آفا تلاش کر

شیخ محمد اسماعیل الکرخی

No comments:

Post a Comment